This is the official website of Tanzeemul Makatib. "Makatib.net" was illegally taken by someone, please do not make any donation to that site. If you have any question, contact directly to Tanzeemul Makatib head office at +91 522 408 0918.

Home » Events and News » تنظیم المکاتب میں جشن انقلاب اسلامی کا انعقاد

تنظیم المکاتب میں جشن انقلاب اسلامی کا انعقاد

جامعہ امامیہ تنظیم المکاتب میں انقلاب اسلامیٔ ایران کی کا میابی کی چالیسویں سالگرہ کے موقع پرایک جشن بعنوان ’’چند لمحات حیات قرآن کے ساتھ ‘‘منعقد  ہوا۔ جشن کا آغاز تلاوت کلام پا ک سے مولوی عمران حسین سلمہ متعلم جا معہ امامیہ نے کیا ۔بعدہ مولوی سہیل مرزا سلمہ نے قرآن مجید کے حوا لے سے منظوم نذرا نۂ عقیدت پیش کیا  مولوی محمد عسکری سلمہ نے رہبر کبیر انقلاب اسلامی آیۃ اللہ العظمیٰ سید روح اللہ الموسوی خمینی قدس سرہ کی حیات طیبہ کا اجمالی خاکہ مقالہ کی صورت میں پیش کیا ۔ مولانا سید منہال حیدر صاحب استاد جامعہ امامیہ نے تقریر کی اور قرآن مجید کی عظمت و بلندی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہمیں قرآن کریم کی کثرت سے تلاوت کرنی چاہیئے اس لئے کہ امام محمد باقر علیہ السلام نے بھی ارشاد فرمایاہے کہ انسان کو چاہیئے کہ وہ روزانہ کم سے کم پچاس آیات قرآنی کی تلاوت کرے۔ امان رضوی سلمہ متعلم جامعہ امامیہ  نے تقریر پیش کی چونکہ جشن میں تقریباً چار قاریان ِ قرآن تھے اس لئے پھر قرآنِ کریم کی تلاوت محمد تقی سلمہ نے کی اور محمد صادق سلمہ نے نباض ادب ڈاکٹر پیام اعظمی صاحب کے مسدس کے چند بند انقلاب اسلامی کے حوالہ سے پیش کئے مومنین کرام نے سلمہ کو داد و تحسین سے نوازا ۔ مولوی نجیب حیدر سلمہ نے انقلاب اسلامی  سےمتعلق مقالہ پیش کیا اور اس کے بعد استاد جامعہ امامیہ مولانا ڈاکٹر منظر علی عارفی صاحب نے تقریر کی اور کہا جس طرح  سے ہمارے ہندوستان میں گاندھی جی نے انقلاب برپا کیا اور انگریزوں کے چنگل سے ہندوستان کو آزاد کرایا اسی طرح امام خمینی نے شاہ رضا پہلوی کے ظلم و تشدد سے ایران کو آزاد کرایا ۔مولانا کے فوراً بعد مولانا فیض عباس صاحب نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ہر انسان کے دل میں خمینیت ہونی چاہیئے کہ وہ کم سے کم اپنے اندر انقلاب لائے اور اپنے نفس کو شیطنت سے آزاد کرائے۔اس طرح سے جشن کی پہلی نشست مکمل ہوئی ۔جامعہ امامیہ تنظیم المکاتب میں انقلاب اسلامیٔ ایران کی کا میابی کی چالیسویں سالگرہ کے موقع پرایک جشن بعنوان ’’چند لمحات حیات قرآن کے ساتھ ‘‘منعقد  ہوا۔ جشن کا آغاز تلاوت کلام پا ک سے مولوی عمران حسین سلمہ متعلم جا معہ امامیہ نے کیا ۔بعدہ مولوی سہیل مرزا سلمہ نے قرآن مجید کے حوا لے سے منظوم نذرا نۂ عقیدت پیش کیا  مولوی محمد عسکری سلمہ نے رہبر کبیر انقلاب اسلامی آیۃ اللہ العظمیٰ سید روح اللہ الموسوی خمینی قدس سرہ کی حیات طیبہ کا اجمالی خاکہ مقالہ کی صورت میں پیش کیا ۔ مولانا سید منہال حیدر صاحب استاد جامعہ امامیہ نے تقریر کی اور قرآن مجید کی عظمت و بلندی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہمیں قرآن کریم کی کثرت سے تلاوت کرنی چاہیئے اس لئے کہ امام محمد باقر علیہ السلام نے بھی ارشاد فرمایاہے کہ انسان کو چاہیئے کہ وہ روزانہ کم سے کم پچاس آیات قرآنی کی تلاوت کرے۔ امان رضوی سلمہ متعلم جامعہ امامیہ  نے تقریر پیش کی چونکہ جشن میں تقریباً چار قاریان ِ قرآن تھے اس لئے پھر قرآنِ کریم کی تلاوت محمد تقی سلمہ نے کی اور محمد صادق سلمہ نے نباض ادب ڈاکٹر پیام اعظمی صاحب کے مسدس کے چند بند انقلاب اسلامی کے حوالہ سے پیش کئے مومنین کرام نے سلمہ کو داد و تحسین سے نوازا ۔ مولوی نجیب حیدر سلمہ نے انقلاب اسلامی  سےمتعلق مقالہ پیش کیا اور اس کے بعد استاد جامعہ امامیہ مولانا ڈاکٹر منظر علی عارفی صاحب نے تقریر کی اور کہا جس طرح  سے ہمارے ہندوستان میں گاندھی جی نے انقلاب برپا کیا اور انگریزوں کے چنگل سے ہندوستان کو آزاد کرایا اسی طرح امام خمینی نے شاہ رضا پہلوی کے ظلم و تشدد سے ایران کو آزاد کرایا ۔مولانا کے فوراً بعد مولانا فیض عباس صاحب نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ہر انسان کے دل میں خمینیت ہونی چاہیئے کہ وہ کم سے کم اپنے اندر انقلاب لائے اور اپنے نفس کو شیطنت سے آزاد کرائے۔اس طرح سے جشن کی پہلی نشست مکمل ہوئی ۔ اس کے بعد پروجیکٹر پر انقلاب اسلامی کی چند ویڈیوز دکھائی گیٔ اور پھر دوسری نشست کا آغاز مولوی عطا عابد سلمہ نے تلاوت کلام پاک سے کیا مولوی منصور حسین سلمہ نے بھی قرأت کے جوہر دکھائے ۔ بعدہُ مولوی علی محمد سلمہ نے منظوم نذرانۂ عقیدت پیش کیا ۔ مولوی محمد رضا سلمہ نے انقلاب اسلامی کے حوالہ سے مقالہ خوانی کی اور بانیٔ تنظیم مولانا سید غلام عسکری اعلی اللہ مقامہ کے انداز تبلیغ کو انقلاب سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ مولانا غلام عسکری طاب ثراہ بھی خمینیٔ ہندوستان تھے۔استاد جامعہ امامیہ مولانا سید منور حسین صاحب نےبہترین تقریر کرتے ہوئے بتایا کہ شاہ پہلوی کے دور میں ایران کس منزل پر تھا اورانقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد اس چالیس برس کے قلیل عرصہ میں آج کس بلندی تک پہنچ چکا ہے اور طلاب جامعہ امامیہ کو علم کی طرف توجہ دلائی تقریر کے بعد ائمہ طاہرین کی مدحت ،امام خمینی کے انقلاب اور مقام معظم رہبری آیۃ اللہ سید علی خامنہ ای مد ظلہ العالی کے حوالہ سے مولوی قائم رضا سلمہ نے اپنے مخصوص انداز میں منظوم نذرانۂ عقیدت پیش کیا ۔ استاد جامعہ امامیہ مولانا فیروز علی صاحب نےانقلاب اسلامی ایران سے متعلق گفتگو کی اوران کے بعد انچارج جامعہ امامیہ مولانا ممتاز جعفر صاحب نے بہترین تقریرفرمائی اور مولانا سید تہذیب الحسن صاحب نے دعائیہ کلمات سے پروگرام کو اختتام پذیر کیا ۔ جشن میں مولانا علی محمد محمدی صاحب نے نظامت کے فرائض انجام دئے جشن میںتمام طلاب و ،اساتیذ جامعہ امامیہ اور کارکنانِ تنظیم المکاتب کے ساتھ ساتھ مومنین کرام نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی۔

1
×
Thank You For Visiting Tanzeemul Makatib Official Website.
Whatsapp or comment for any inquiry.
Aaj Ki Baat
* tanzeemul makatib is an organization
* it is stablished in 1968
* its founder is Maulana Syed Ghulam Askari T. S.)
Majalise Tarheem